Saturday, Oct 25th

Last update12:00:00 AM

You are here: Press Releases Local PRs Resolutions of the Defense Committee of Cabinet (DCC) are to increase American hegemony over Pakistan
  • PDF

Resolutions of the Defense Committee of Cabinet (DCC) are to increase American hegemony over Pakistan

The resolutions taken by the Defense Committee of the Cabinet (DCC) in its latest session chaired by the Prime Minister, Yousaf Raza Gillani, do not just preserve the American hegemony or “footprint” within Pakistan, rather they extend it even further. Hizb ut Tahrir strongly condemns these DCC Resolutions and rejects them completely. These decisions are a step towards legalizing the illegal and un-Islamic secret agreements with the Americans, which started in the Musharraf era. Do the DCC’s decisions such as; increasing cooperation against terrorism, increasing cooperation between the intelligence agencies, legalizing the presence of US diplomatic and secret intelligence officials inside Pakistan and defining the terms of engagement regarding NATO supply line, not increase the American footprint inside Pakistan?

The traitors in the civilian and military leadership never wanted to permanently close the NATO Supply line and eliminate the American footprint inside Pakistan. But to counter the demand of stopping co-operation with America by the public and armed forces, and to cool down the resentment against the traitors in the civilian and military leadership over the Abbotabad humiliation in May 2011 and the subsequent Salala Attack in November 2011, the supply line was temporary blocked as a drama. Now that five months have passed, the rubber stamp parliament has been used to create an impression that the civilian and military leadership has blocked the way for American intervention in Pakistan. The DCC’s resolutions are like selling the same old wine in a new bottle. The traitors in the civilian and military leadership have sold the blood of the officers and jawans who were martyred in the Salala Attack. Hizb ut Tahrir wants to make it clear to the Ummah and the sincere officers in the armed forces, that these are the same traitors who gave as an excuse for joining the American Crusade against Islam years back, that America would support us for Kashmir Cause, strengthening the economy and securing Pakistan’s nuclear program. But all these claims turned out as lies. These are the same traitors who have raised the issue of the Indian presence in Tribal Areas to convince officers and jawans of the armed forces to fight against our own people. But the issue of Indian interference has neither been raised on any international forum nor with India in the dialogue process. It seems that with the approval of Americans and the Indians, the current Pakistani government is deliberately raising the concern of Indian interference in Baluchistan and the Tribal Areas to ignite this fire of Fitna and then afterwards, when the operations are started, this ‘Indian Factor’ is silently buried under the sand. This is the reason that now when operations in all FATA areas are over, India has been suddenly granted the Most Favored Nation status in trade. India has been granted trade transit as well. All items are being allowed for trading except for a very few items. And most importantly, to ensure Pakistan is subservient to India talks of importing oil and electricity from India are now underway, so that the rulers can surrender the Kashmir Cause by saying that how can we stand up to India when we take electricity and oil from it? The ‘Friendly Opposition’ is part of this treachery and most prominently Nawaz and Shehbaz Sharif. The recent statement by Nawaz Sharif regarding his acceptance of defeat in Kargil and retreat of the forces, and his support for opening the NATO supply line, has made it clear that both PPP and PML-N are in agreement over securing the interest of Americans.

Hizb ut Tahrir demands from the sincere officers in the armed forces to stop this treachery by Zardari and Kayani and establish the Khilafah by granting Nussrah to Hizb ut Tahrir. It is the Khilafah that would mobilize the Ummah and armed forces to liberate Pakistan from American and Indian hegemony forever.

Shahzad Shaikh

The Official Deputy Spokesman of Hizb ut Tahrir in Pakistan



بسم الله الرحمن الرحيم

جمعرات، 27 جمادی الاول، 1433 ھ 19/04/2012 نمبر:PR12014

کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلے پاکستان میں امریکی تسلط کو بڑھانے کے لیے ہیں

وزیراعظم گیلانی کی صدارت میں ہونے والی کابینہ کی دفاعی کمیٹی (DCC) کے فیصلے درحقیقت پاکستان پر امریکی تسلط (فٹ پرنٹ) کو نہ صرف برقرار رکھنے بلکہ مزید بڑھانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ حزب التحریر دفاعی کمیٹی کے ان فیصلوں کی پرزور مذمت کرتی ہے اور انھیں مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔ یہ فیصلے مشرف کے دور سے جاری امریکہ کے ساتھ غیر قانونی اور غیر شرعی خفیہ تعاون کو قانونی شکل دے کر ان کو جاری رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ کیا دفاعی کمیٹی کے یہ فیصلے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں بڑھائی جائیں، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ کیا جائے، پاکستان میں امریکی سفارتی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی موجودگی کو شفاف بنایا جائے اور نیٹو سپلائی لائن کے قوائد و ضوابط طے کئے جائیں، پاکستان میں امریکی فٹ پرنٹ کو مزید بڑھانے کا باعث نہیں بنیں گے؟

سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار کبھی بھی نیٹو سپلائی لائن کی بندش یا پاکستان سے امریکی فٹ پرنٹ کا خاتمہ نہیں چاہتے تھے۔ لیکن ایبٹ آباد اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد افواج پاکستان اور عوام میں امریکہ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے خاتمے اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کے خلاف اٹھنے والی نفرت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نیٹو سپلائی لائن کی جزوی بندش کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اب پانچ مہینے گزر جانے اور ربر سٹمپ پارلیمنٹ کا کاندھا استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سیاسی و فوجی قیادت نے پاکستان میں امریکی مداخلت کے آگے بند باندھ دیا ہے۔ کابینہ کمیٹی کے یہ فیصلے پرانی شراب کو نئی بوتل میں ڈال کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے سلالہ چیک پوسٹ پر شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کے خون کا سودا کر دیا ہے۔ حزب التحریر امت اور افواج پاکستان کے مخلص افسران کو بتا دینا چاہتی ہے کہ یہی وہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار ہیں جنھوں نے پہلے اسلام کے خلاف امریکی جنگ شامل ہونے کے لیے یہ عذر دیا تھا کہ امریکہ کشمیر، معیشت کی مضبوطی اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت میں مدد دے گا۔ لیکن یہ تمام دعوے جھوٹے نکلے۔ یہی وہ سیاسی اور  فوجی قیادت میں موجود غدار ہیں جنہوں نے پاک فوج کے جوانوں کو قبائلی علاقوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے بھارتی مداخلت کا واویلا مچایا۔ لیکن اس مسئلے کو آج تک کسی عالمی فورم پریا بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات تک میں نہ اٹھایا۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھارتی مداخلت کی بات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکہ اور بھارت کی مرضی سے کی جارہی تھی تاکہ فتنے کی جنگ شروع کی جاسکے اور بعد ازاں جب یہ بھڑک اٹھے تو "انڈین فیکٹر" کو خاموشی سے دفنا دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ پورے فاٹا میں آپریشن ہو چکے ہیں یکایک بھارت کو MNF سٹیٹس دے دیا گیا۔ اسے تجارتی راہداری بھی مہیا کر دی گئی۔ چند اشیاء کے علاوہ باقی اشیاء کی تجارت کی اجازت بھی دی جا رہی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان کو بھارت کا مرہون منت بنانے کے لئے اس سے بجلی اور تیل بھی درآمد کرنے کی بات کی جارہی ہے تاکہ حکمران یہ کہہ کر کشمیر سے دستبرداری اختیار کر سکیں کہ ہم بھارت کے خلاف کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں جب ہماری بجلی اور تیل تو وہاں سے آتا ہے۔ اس غداری میں "فرینڈلی اپوزیشن" بھی شامل ہے جس میں سب سے آگے نواز شریف اور شہباز شریف ہیں۔ حال ہی میں نواز شریف کی طرف سے کارگل پر شکست تسلیم کر کے فوجیں واپس بلانے کی بَڑ اور سپلائی لائن کھولنے کی حمایت نے ثابت کر دیا ہے کہ PPP اور PML-N دونوں امریکہ کے مفادات کے تحفظ میں مکمل ہم آہنگ ہیں۔

حزب التحریر افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر زرداری اور کیانی کی غداری کو روکیں اور حزب التحریر کو نصرة دے کر خلافت کا قیام عمل میں لائیں۔ پھرخلافت امت اور افواج کو متحرک کر کے پاکستان کو امریکی اور بھارتی تسلط سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائے گی۔


شہزاد شیخ

پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Thursday, 27th of Jamdi ul-Awwal
N0: PR12104
Friday, 7th of Jamdi ul-Awwal
Follow us on Twitter